جارج اورویل: 1984
سالِ اشاعت: یہ ناول 1949 میں شائع ہوا۔
پس منظر: اورویل نے یہ ناول دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد لکھا، جب دنیا میں آمریت (Totalitarianism) اور ہٹلر و اسٹالن جیسے حکمرانوں کے اثرات واضح تھے۔ اورویل نے 1948 میں یہ ناول مکمل کیا تھا اور اس کے آخری دو ہندسوں کو الٹا کر کے اس کا عنوان '1984' رکھا تھا۔
مختصر ایلڈس ہکسلے اور جارج اورویل کے بارے میں کچھ ایسی باتیں اور حقیقتیں ہیں جو ان کے ناولوں کو ایک بالکل نیا زاویہ دیتی ہیں۔ یہ معلومات آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دیں گی کہ ان کے ذہن میں یہ خیالات کیسے آئے۔
1. استاد اور شاگرد کا رشتہ
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ الڈس ہکسلے دراصل جارج اورویل کے استاد رہ چکے تھے۔ 1917 میں جب اورویل 'ایٹن کالج' (Eton College) میں زیرِ تعلیم تھے، تو ہکسلے وہاں ان کے فرانسیسی زبان کے استاد تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اورویل نے اپنا ناول '1984' شائع کیا، تو ہکسلے نے انہیں ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اورویل کی تعریف تو کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ: "میرا خیال ہے کہ مستقبل کی حکومتیں تشدد (خوف) کے بجائے لوگوں کو لذت (سوما) کے ذریعے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیں گی۔"
2. ہکسلے کی بینائی کا مسئلہ
ہکسلے کو نوعمری میں ایک بیماری کی وجہ سے بینائی کا شدید مسئلہ رہا، وہ تقریباً اندھے ہو چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول 'Brave New World' میں "دیکھنے اور مشاہدہ کرنے" کے بجائے "احساس اور چھونے" (Feelies) پر بہت زور دیا گیا ہے۔ وہ دنیا کو ایک مختلف حس سے محسوس کرتے تھے، اور ان کا یہ تجربہ ان کی تحریر میں بھی جھلکتا ہے۔
3. اورویل کی آخری جنگ
جارج اورویل نے '1984' اس وقت لکھا جب وہ تپِ دق (TB) کے مرض میں مبتلا تھے اور اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انہوں نے یہ ناول اسکاٹ لینڈ کے ایک دور افتادہ جزیرے پر انتہائی تکلیف کی حالت میں ٹائپ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ناول کی وہ "گھٹن اور ناامیدی" دراصل اورویل کی اپنی جسمانی تکلیف اور بیماری کا عکس بھی ہو سکتی ہے۔
4. ہکسلے کی "آخری خواہش"
ہکسلے نے اپنی پوری زندگی شعور کی بلندیوں کی تلاش میں گزاری۔ اپنی موت کے وقت (22 نومبر 1963) انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمائش کی کہ انہیں LSD (ایک قسم کی دوا جو شعور پر اثر انداز ہوتی ہے) کا انجکشن لگایا جائے۔ وہ موت کے تجربے کو بھی مکمل ہوش و حواس اور ایک "سفر" کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ اتفاق سے، اسی دن امریکی صدر جان ایف کینیڈی کا قتل ہوا، جس کی وجہ سے ہکسلے کی موت کی خبر دب گئی۔
خلاصہ:
ہکسلے (1932): ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے ابتدائی دور کا ردِ عمل۔
اورویل (1949): دوسری جنگِ عظیم کے بعد ابھرنے والی سیاسی آمریت کا ردِ عمل۔
یہ حقائق دکھاتے ہیں کہ یہ مصنفین صرف کہانیاں نہیں لکھ رہے تھے، بلکہ وہ اپنی زندگی کے مشاہدات اور تکالیف کو کاغذ پر اتار رہے تھے۔
ہکسلے کا فلسفہ "شعور کی آزادی" کے گرد گھومتا ہے۔
اورویل کا فلسفہ "سیاسی دیانت" کے گرد گھومتا ہے۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایک مصنف کی ذاتی زندگی اور اس کی جسمانی حالت اس کے فلسفے پر اثر انداز ہوتی